کروڑوں ڈالر کمانے والے ڈائریکٹر کرسٹوفر نولن کے پاس کون سا اسمارٹ فون ہے؟ "انسیپشن"، "انٹرسٹيلر"، "دی ڈارک نائٹ" اور "اوپن ہائیمر" جیسی شاہکار فلمیں تخلیق کرنے والے آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کار کرسٹوفر نولن ان دنوں اپنی نئی فلم "دی اوڈیسی" کے باعث میڈیا اور سینما کی دنیا میں توجہ کا مرکز ہیں۔اس فلم کو دنیا بھر کے منتخب چالیس سینما گھروں میں اصل "70MM IMAX" فارمیٹ پر پیش کیا گیا ہے، جس نے ریلیز ہوتے ہی باکس آفس پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔ فلم "دی اوڈیسی" اب کسی تعارف کی محتاج نہیں رہی ، سوشل میڈیا پر اس فلم کو اس قدر ڈسکس کیا جا چکا ہے کہ بچہ بچہ اب اس کے بارے میں جانتا ہے، یہی نہیں، تقریبا 25 کروڑ ڈالرز کے خطیر بجٹ سے بننے والی اس فلم نے بمپر اوپننگ کے ایسے ریکارڈ ز رقم کیے ہیں کہ محض تین دنوں میں فلم نے اپنی لاگت ریکور کر لی اور چونکہ پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے تو آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ؟ آنے والے دنوں میں بزنس کے پتا نہیں کون کون سے ریکارڈز قائم ہونے والے ہیں ؟لیکن آج ہمارا موضوع کرسٹوفر نولن کی نئی فلم نہیں بلکہ ان کے بارے ایک ایسی حیرت انگیز حقیقت ہے ، جو شاید بہت سے لوگوں کو پتہ نہیں ہوگی،پردۂ سیمیں پر ٹیکنالوجی کے نئے معیار قائم کرنے والے نولن اپنی ذاتی زندگی میں نہ تو اسمارٹ فون رکھتے ہیں اور نہ ہی ای میل اور انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ محض رابطہ قائم رکھنے کے لیے ایک سادہ سا "فلپ فون" استعمال کرتے ہیں۔اور ان کا لیپ ٹاپ جس پر وہ اسکرپٹ کا کام کرتے ہیں، وہ بھی انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہوتا۔اس حوالے سے ان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ جدید اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ انسان کا دھیان بٹاتے ہیں اور اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ای میل جیسے ذرائع سے بھی دور رہتے ہیں اور تمام تر پیشہ ورانہ مراسلت ان کی ایک مخصوص ٹیم سنبھالتی ہے۔یوں، غیر ضروری ڈیجیٹل الجھنوں سے خود کو آزاد رکھ کر نولن اپنا پورا وقت اور توجہ صرف اور صرف نئی سوچ، اسکرپٹ رائٹنگ اور فلم سازی کے تخلیقی عمل پر مرکوز رکھتے ہیں۔ کیا آج سے پہلے آپ کو کرسٹوفر نولن کی یہ دلچسپ حقیقت پتہ تھی ؟
Comments 0
Log in to leave a comment.